میں اک کانچ کی گڑیا

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

میں اک کانچ کی گڑیا
ہواۓ دہر کی زد میں کبھی ٹوٹی کبھی بکھری
میں وقت کی آنکھ میں ٹھہرا ہوا
بے رنگ سا آنسو
کہ جس کی منزلیں زمین کی پہنائیاں ٹھہری
میں آنگن کے درو دیوار پر ٹھہرا
اک خزاں زدہ موسم
جسے کوئ دیکھنا چاہے نہ خواہش ہو چھونے کی
میں اک کانچ کی گڑیا
میں بے رنگ سا آنسو
میں خزاں زدہ موسم
مگر، رکو ، سنو ، دیکھو
میں انسان بھی تو ہوں
میرے احساس کے زخمی بدن کو نرم لفظوں کا
مرہم دو
میرے بے رنگ ہاتھوں کو کبھی تو کوئ رنگ دے دو
محبت نہ سہی
مگر اتنا ہی کردو تم
فقط اعتبار کا اک لازوال پل مجھے دے دو
 

Rate it:
Views: 558
14 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL