میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiمیں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
جس صبح سورج کہ ماتھے پر کوئی دکھ زدہ شکن نہ ہو
اپنی جلوہ گری پر کوئی شرمندگی نہ ہو
خیرہ کردہ روشنی سے اپنی آنکھیں نہ چرانی پڑیں
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
جس صبح کی خبر میں
رات کا کوئی ڈراؤنا قصہ نہ ہو
کسی کہ قتل کا کسی کی آبروریزی کا حصہ نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
اﷲ اکبر پر سب بے خوف لبیک کہیں
کسی گھر میں ڈرو خوف کا پہرہ نہ ہو
کوئی فردگھر سے نکلتے ڈرتا نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
گولیوں کی گھن گرج نہ ہو
سڑکوں پہ گاڑیوں کہ جلنے کی خاک نہ ہو
ہر طرف خوف و ہراس نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
نفرتوں کا کسی کو پتہ نہ ہو
زبانوں اور فرقوں میں دل بٹا نہ ہو
محرم ہو یا ربیع الاول کوئی خوف کا مارا نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
ایمان کی تفریق نہ ہو ، کوئی سوداگری نہ ہو
آئین و قانون کہ پیرو کاری ہو
کہیں چوری چکاری نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
کوئی بھیکاری نہ ہو، کوئی بیماری نہ ہو، کوئی بیچاری نہ ہو
نامعلوم افراد سے چھٹکارا چاہتا ہوں
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
میں ایسی نئی صبح چاہتا ہوں
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔







