میں باغ ہوں
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaمیں باغ ہوں
اتنا یاد رہے
میرے پودوں کو چھو کر
میرا پھل کھانے والے
میں باغ ہوں
میرے حسن سے آنکھیں ٹھنڈی کر کے
ساتھ مجھے رکھ کے
ایک نگاہ تفاخر
لوگوں پر کافی نہیں
ہاں میں تیری ملکیت ہوں
پر
یاد رہے
میں باغ ہوں
پانی میری جان ہے
کہ پانی جب میری رگوں سے گزرتا ہے
تو سیراب کیئے جاتا ہے مجھے
تُو مجھے پانی دینا
بھول ہی جاتا ہے
میں باغ ہوں
میں تیری ملکیت کا وہ
پُر تعیش سامان نہیں
تُو نے خریدا
رکھا
بھول گیا
میں باغ ہوں
دور بہت دور جو تنہا قبر ہے
اُس پر بھی بھولا بھٹکا
کوئی مسافر
آ جاتا ہے
میں باغ ہوں
میری حدود میں
کوئی اور پرندہ بھی تو آ سکتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






