میں باغ ہوں

Poet: AzharM By: AzharM, Doha

میں باغ ہوں
اتنا یاد رہے
میرے پودوں کو چھو کر
میرا پھل کھانے والے
میں باغ ہوں

میرے حسن سے آنکھیں ٹھنڈی کر کے
ساتھ مجھے رکھ کے
ایک نگاہ تفاخر
لوگوں پر کافی نہیں
ہاں میں تیری ملکیت ہوں
پر
یاد رہے
میں باغ ہوں

پانی میری جان ہے
کہ پانی جب میری رگوں سے گزرتا ہے
تو سیراب کیئے جاتا ہے مجھے
تُو مجھے پانی دینا
بھول ہی جاتا ہے
میں باغ ہوں

میں تیری ملکیت کا وہ
پُر تعیش سامان نہیں
تُو نے خریدا
رکھا
بھول گیا
میں باغ ہوں

دور بہت دور جو تنہا قبر ہے
اُس پر بھی بھولا بھٹکا
کوئی مسافر
آ جاتا ہے
میں باغ ہوں
میری حدود میں
کوئی اور پرندہ بھی تو آ سکتا ہے

Rate it:
Views: 561
19 Aug, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL