میں بشر ہوں، میرا نام انسان ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں بشر ہوں، میرا نام انسان ہے
میرا جہاں زمین، کبھی آسمان ہے
میرے دل میں محبت موجزن ہے
مجھ میں ہی نفرتوں کا جہان ہے
وفا کی راہ میں دل جان وار سکتا ہوں
وفا شعاری میرا دین ہے ایمان ہے
میرا بے داغ بدن خاک میں نہ مل جائے
کہ میری تاک میں بیٹھا کوئی شیطان ہے
اور یہ میرا طرز فکر طرز سخن طرز تکلم
یہ طرز تخاطب ہی اب میری پہچان ہے
مگر میں بے خطر راہوں سے گزرتا جاؤں
مجھے یقیں ہے میرے ساتھ وہ ‘رحمٰن‘ ہے
نیا شکاری نیا جال لے کے آیا ہے
میری تدبیر سے شاید ابھی انجان ہے
ہزاروں بھیس بدل کر مجھے بہکاتا ہے
سمجھتا ہے کہ مقابل کوئی نادان ہے
بظاہر میں سکون میں دکھائی دیتا ہوں
موجزن میرے بدن میں کوئی طوفان ہے
اہل بصارت ظاہری وجود نہ دیکھو
کہ میری روح تروتازہ دل جوان ہے
مایوسی کفر ہے کبھی مایوس نہ ہونا
یہ حکم ربی ہے رسول کا فرمان ہے
سدھر جائیں گے یہ حالات ایک دن عظمٰی
محض گمان نہیں یہ میرا ایمان ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






