میں بُھول جانا چاہتا ہوں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaمیں بُھول جانا چاہتا ہوں
بیتے دِنوں کی یادیں
ساتھ بتائی راتیں
محبت کے وعدے
وہ تمام چاہتیں
وہ عمر بھر کے غم
وہ چار دن کی رونقیں
بُھول کے سب کچھ
اب مسکرانا چاہتا ہوں
تری بے وفائی ترا پیار بھی
ترا اظہار ترا انکار بھی
خزائوں کے پیلے پتے
حسین موسمِ بہار بھی
وہ کومل دوا جیسے ہاتھ
زخم دیتی تلوار بھی
عشق کا کوئی بھی عمل
اب نہ دوہرانا چاہتا ہوں
غم کا خیال نہ رہے
کوئی شکوہ کوئی سوال نہ رہے
بھلا کے پرانی یادیں
دل میں کوئی ملال نہ رہے
اچھا تو بہت ہوگا اگر
زندہ اب نہال نہ رہے
زندگی کو آزمانے کے بعد
موت کو آزمانا چاہتا ہوں
وہ رم جم وہ برسات
وہ چاند تارے وہ چاندنی رات
وہ ناراضگی وہ پیار کی بات
کومل ہاتھوں میں
ترے کومل ہاتھ
مرنے سے پہلے
غمِ داستاں سُنانا چاہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






