میں بھی تجھ کو ہی مانگتی رب سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیااپنی دنیا سے کیوں خفا ہوتی
تیرے در کی اگر گدا ہوتی
غم نہ ملتے جو تیری ہجرت کے
اپنے آنگن کی میں ہوا ہوتی
بیٹھی رہتی تمارے گلشن میں
میں بھی بلبل کی گر صدا ہوتی
مجھکو میری وفا نے کچھ نہ دیا
اچھا ہوتا جو بے وفا ہوتی
تو جو مل جاتا پیار کی صورت
کیوں مقدر سے میں خفا ہوتی
میں بھی تجھ کو ہی مانگتی رب سے
تیرے ہاتھوں کی میں دعا ہوتی
دل تقاضے نہ کر رہا ہوتا
روح تن سے اگر جدا ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






