میں بے وفا نہیں

Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOT

نہ ٹوٹ کے مجھے پیار کر میں مہمان ہوں دو دن کا
نہ عشق میں خود کو گرفتار کو میں مہمان ہوں دو دن کا

میری منزل ہے یہ نہ راستہ تجھے خدا کا ہے واسطہ
میری باتوں کا اعتبار کر میں مہمان ہوں دو دن کا

بازوؤں پہ سر رکھ کوئی سلائے گا نہ شرارتوں سے بہلا ئے گا
نادان صنم خود کو سمجھدار کر میں مہمان ہوں دو دن کا

پردیسی ہوں پردیس میرا نصیب ہے ہمارا بچھڑنا بہت قریب ہے
نہ صلیب ہجر پہ خود کو سوار کر میں مہمان ہوں دو دن کا

میں بے وفا نہیں مگر مجبوری ہے تیرا شہر چھوڑنا بہت ضروری ہے
پیارے تو ضد بھی چاہے ہزار کر میں مہمان ہوں دو دن کا

جاتے جاتے کوئی انعام دے مجھے زہر دے یا جام دے
مجھے اتنا تو قرض دار کر میں مہمان ہوں دو دن کا

یہ آخری اپنا میل ہے پھر ملن ہو نہ ہو تقدیر کا کھیل ہے
جی بھر کے امتیاز کا دیدار کر میں مہمان ہوں دو دن کا

Rate it:
Views: 764
19 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL