میں تجھے اپنانا چاہتا ہوں۔۔۔
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreحسین چاند کو تیرے ماتھے پہ سجانا چاہتا ہوں
تیری راہ گزر پہ جانِ جاں پلکیں بچھانا چاہتا ہوں
میں کیسے کہوں اے جانِ ادا ، میں تجھے اپنانا چاہتا ہوں
کبھی آنکھوں سے ملیں آنکھیں، پھر سانسوں سے ملیں سانسیں
دو دل ملا کے میں جاناں، دو روح ملانا چاہتا ہوں
میں کیسے کہوں اے جانِ ادا ، میں تجھے اپنانا چاہتا ہوں
میری تو تم سوچ نظر میں، بس چکی ہو کچھ یوں
دِکھے ہے تیری ہی جھلک، میں جو چیز بھی دیکھوں
بس اسی طرح دلدار تیری دھڑکن میں سمانا چاہتا ہوں
میں کیسے کہوں اے جانِ ادا ، میں تجھے اپنانا چاہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






