میں تم پر نظم لکھوں گا
Poet: Farman Ali Arman By: Farman Ali Arman, Vehariاگر فرصت ملی مجھ کو
مرا وعدہ ہے تم سے یہ
میں تم پر نظم لکھوں گا
میں لکھوں گا
تری زُلفیں ، تری پلکیں
کہ تیرے حُسن کا اِک باب کیسا ہے؟
تمہیں جو دیکھ کر آئے
حسیں وہ خواب کیسا ہے؟
تری نازُک کلائی میں
یہ کنگن کیسے لگتے ہیں؟
اگر تو زُلف کو کھولے
گھٹائیں کیسی آتی ہیں
کئی دیوانوں کے دل سے
صدائیں کیسی آتی ہیں
زمانے سے الگ تم کو
ادائیں کیسی آتی ہیں
کہ جب تم مُسکراتی ہو
تو کتنے پھول کھِلتے ہیں
تمہاری مانگ میں سجنے کو
تارے کیوں ترستے ہیں
یہ چندا چیز ہے کیا؟
ہجر میں تیرے تو بادل بھی برستے ہیں
کہ ایسا کیا ہے تجھ میں جو
ہر اِک دل جھُک سا جاتا ہے
کہ جب تم چلنے لگتی ہو
زمانہ رُک سا جاتا ہے
اگر فرصت ملی مجھ کو
مرا وعدہ ہے تم سے یہ
میں تم پر نظم لکھوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






