میں تمھارے پاس آنا چاہتی ہوں
Poet: ارسلان حُسینؔ By: Arsalan Hussain, Ajman تمھارے پاس آنا چاہتی ہوں
میں حالے دل سُنانا چاہتی ہوں
لوگ کہتے ہیں محبت ہے مجھے
میں اب تم کو بتانا چاہتی ہوں
بہت رہ لی میں پرائے گھر میں
اب اپنے گھر جانا چاہتی ہوں
جس میں تعبیر ہے تمھارے خوابوں کی
وہ حَسِین نگری دیکھانا چاہتی ہوں
زیب کر لو مجھے پوشاک کی طرَح
تمھیں آندھی سے بچانا چاہتی ہوں
تم اپنا عکس میری آنکھوں میں دیکھو
تمہیں تم سے مِلانا چاہتی ہوں
جو بھی دیکھے وہ نگاہ بَرق کرے
میں ایسے پیش آنا چاہتی ہوں
کِرچا کِرچا مجھے سَمیٹو تم
میں ایسے ٹُوٹ جانا چاہتی ہوں
حُسینؔ ! سُنا ہے تم مَنانا جانتے ہو
میں تم سے رُوٹھ جانا چاہتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






