میں تنہا نہیں رازداں اور بھی ہیں
Poet: By: AB Shahzad, Mailsiمیں تنہا نہیں رازداں اور بھی ہیں
ہیں مخلص مرے جان جاں اور بھی ہیں
بسر را ت اپنی کہیں کر لوں گا میں
مرے رہنے کو سائباں اور بھی ہیں
میں روز کرتا مسافت ہوں پیدل
مسافت کے میرے نشاں اور بھی ہیں
نہیں توں سنے گا یہ معلوم ہی ہے
مری سننے کو داستاں اور بھی ہیں
اکیلا نہیں میں چلا تیری جانب
مرے ساتھ تو رفتگاں اور بھی ہیں
مرا قافلہ سب سے چھوٹا ہے ان میں
مرے سے بڑے کارواں اور بھی ہیں
جہاں یہ ترا ہے مرا تو نہیں ہے
علاوہ ترے کے جہاں اور بھی ہیں
میں شہزاد اب پہلے جیسا نہیں ہوں
مرے دوست تو میزباں اور بھی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






