میں تو عروج تھی ُاس کے لیے لکی

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

رشتوں پر سے
اعتبار ُاٹھ گیا ہے
جو چل رہا تھا ساتھ منزل کی جانب
بس اک ُاسی اپنے کا
ساتھ چھوٹ گیا ہے
ہوایئں کس قدر تیز چل رہی ہیں لکی
کہ نا چاہتے ہوئے بھی
چراغ بھج گیا ہے
وہ کتنی حسین تھی شام
کہ چاند پورا تھا فلک پے
لیکن جب خود پر نظر پڑی تو
تنہایوں سے میرا دل دڑ گیا ہے
میں تو عروج تھی ُاس کے لیے لکی
پھر وہ شخص مجھے
زوال کیسے کر گیا ہے
ُاس کی پیار بھری باتیں تو
مجھ میں سماء گئی ہیں
پھر نجانے وہ اپنی ہی
کہی باتوں سے مکر کیسے گیا ہے
وہ ایسا تو نہیں تھا لکی
پھر وہ میرے ساتھ ایسا کیوں کر گیا ہے

Rate it:
Views: 722
31 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL