میں تیرا سب کچھ ہوں
Poet: By: farah ejaz, Aaronsburgمیں ہی خوشی
میں ہی غم
کسی حسیں کی ہنسی کی ہوں جلترنگ
میں ہی سمندر
میں ہی کنارہ
ڈوبتی اُبھرتی زندگی کا ہوں سہارا
میں ہی خوشبو
میں ہی نغمہ
مہکتی فضائوں نے گنگنایا ہو جیسے
کوئی البیلا سا ترانا
میں ہی ترنم
میں ہی موسیقی
جیسےموسیقار نے بجایا ہو نیا ساز کوئی
میں ہی دھوپ
میں ہی چھاؤں
صبح ور رات کا حسین ملاپ
میں ہی تخیل
میں ہی خواب
تیرے حسین تصورات کا ہوں حاصل
میں سب کچھ ہوں
اس لئے تیرے دل میں بستی ہوں
یادوں میں رہتی ہوں
کیونکہ میں محبت ہوں
تیری الفت ہوں ۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






