میں تیرا ہوگیا
Poet: Ayesha Gulzar Malik By: Ayesha Gulzar Malik, Karachiتو روبرو جب سے ہوا میں خوشنما ہوگیا
تیرا ا ثر جب سے ہوا میں لا پتا سا ہوگیا
جانونہ میں کیسانشہ مجھ پہ تیراہو گیا
دل کی لگی تجھ سے لگی میں تیراہو گیا
منزلیں تجھ سےجڑی یہ سفرحسین ہوگیا
میں آشنا تجھ سے ہوا تومیرا سکوں ہوگیا
ہےحسرت یہی ہےچاہت یہی توزندگی ہوگیا
اک شام ہو تیرا ساتھ ہو میں دیوانہ ہو گیا
تیری راہ گزر میرا راستہ میں ب س تیرا ہوگیا
تیراہاتھ میرےہاتھ ہوزندگی بھرکا ساتھ ہو
ہر دن تیرا دیدار ہو میں اس قدر تیرا ہوگیا
تو رو برو جب سے ہوا میں خوشنما ہو گیا
تیرا ا ثر جب سے ہوا میں لا پتا سا ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






