میں جسے لکھتا رہا بےشمار خط
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mirpuri, Birminghamمیں جسے لکھتا رہا بےشمار خط
آج اس نےبھیجا ہے پہلی بار خط
جب پڑھتا ہوں اس کا دل نثار خط
جی چاہتا ہے بنا لوں گلے کاہارخط
اس اپنےدل سے لگا کر رکھوں گا
میرے یار کا دلنشیں مشکبارخط
ایک بار پڑھنے سے جی نہیں بھرا
اس لیے پڑھتا ہوں بار بار خط
تکیے کے نیچے رکھ کر سوؤں گا
میرے لیےرہے گا یہ یادگار خط
وہ چاہے میرے خط کاجواب نہ دے
میں لکھتا رہوں گا اسےلگاتار خط
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







