میں جو لکھتا ہوں، مرے حرف صدا دیتے ہیں
Poet: azharm By: Azhar, Dohaمیں جو لکھتا ہوں، مرے حرف صدا دیتے ہیں
فرش والے نہ سہی، عرش ھلا دیتے ہیں
پوچھتے کیا ہو، بنے پھرتے ہیں پاگل کیونکر
چاہتا کون ہے، حالات بنا دیتے ہیں
یوں تو کرتا ہی رہا ہوں میں جفا کا ماتم
کیوں وفا کر کے بھی کچھ لوگ رلا دیتے ہیں
شرم آتی بھی نہیں، نام کے ہمدردوں کو
جھونک کر آنکھ میں جب دھول دغا دیتے ہیں
روز پوچھیں وہ کہو ہجر میں کیسی گزری
روز بجھتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
ہاں جنم دن پہ خوشی کیسے مناٴے اظہر
یہ گزرتے ہوئے دن، عمر گھٹا دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






