میں خوش ہوں کہ ُاداس ہوں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیں خوش ہوں کہ ُاداس ہوں
دیکھنے میں دور مگر
دل کے بہت پاس ہوں
میں عام ہوں یا پھر خاص ہوں
تم چھو لو اگر تو بہت نایاب ہوں
میں پیڑ ہوں یا کوئی شاخ ہوں
تمہارے ساتھ ہوں تو
کھلتا اک گلاب ہوں
میں محفل ہوں کہ جام ہوں
تم ساقی ہو اگر تو میں شراب ہوں
میں مٹی ہوں کہ پہاڑ ہوں
تم شانا تو آگے کرو
میں تمہاری شال ہوں
میں دن ہوں کہ رات ہوں
مجھے اب احساس دلا دو
کہ میں صرف تمہاری جان ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






