میں سالِ نو کی تہنیت دوں کس طرح تم کو !!؟
Poet: Dr.Muhammed Husainb Mushaid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonنئے اسلامی سال 1434ھ کی آمد پر
افق کے گوشے سے ابھرا ہلال نو دیکھو
اک ایسے وقت میں جب کہ جہاں میں چار طرف
تماشہ برپا ہے دین مبیں پہ حملہ ہے
کہیں پہ سرور عالم(ﷺ)کی شانِ اقدس میں
کوئی دریدہ دہن طنز کرتا ہے
کہیں پہ ملت بیضا کے خون کی ہولی
بڑے ہی شوق سے دشمن ہے کھیلنے میں مگن
کہیں پہ نام کے مسلم یہو د کے ہمدم
بنائے بیٹھے ہیں منصوبہ ایک یہ ناپاک
کہ کردیں منہدم وہ سبز سبز گنبد کو
اب ایسے عالم آشوب میں بتائے تو کوئی
میں پوچھتا ہوں مرے دوستو بتاؤ تو مجھ کو
بتاؤ دوستو میں پوچھتا ہوں ایسے عالم میں
میں سال نو کی تہنیت دوں کس طرح تم کو !!؟
بس ایک حرف دعا لب سے یہ نکلتا ہے
جہاں بھی تم رہو دنیا میں ہر جگہ تم کو
قدم قدم پہ مسرت بھری بہار ملے
قدم قدم پہ مسرت بھری بہار ملے
طفیل سیدعالم(ﷺ) خداے بخشندہ
یہ سال امت احمد(ﷺ)کے واسطے مولا!
ہر ایک طرح سے ہو امن و شانتی کا سال
ہر ایک طرح سے ہو امن و شانتی کاسال
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






