میں سوچتا ہوں آخر اتنی ضدی کیوں ہے وہ
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer, Karachiمیں سوچتا ہوں آخر اتنی ضدی کیوں ہے وہ
اک بار مل کر کبھی نہ ملنے کی قسم کھائی ہے وہ
یاد کرتی تو ہے مجھے بہت جانتا ہوں میں بھی
محفل میں نہ آنے کی بھی کیا قسم کھائی ہے وہ
اک غزل پڑھ کر خیال آیا مجھے اس کا پھر
بھولی ہے بہت ، بہتر ہے اگر واپس آجائے وہ
کچھ تو کشش ہوگی اس کے لفظوں میں بھی انو
بہت اچھا ہوگا اگر پھر سے لکھنا شروع کر دے وہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






