میں فریب تحفظ میں اک عمر جیتی رہی

Poet: Maria Riaz Ghouri By: MArIa GHoUri, HarooNAbd

اس کے لفظوں میں خود کو تلاش کرتی رہی
اس کے اک اک اشعار پہ مرتی رہی

نہیں جانتی تھی وہ تو ہے لفظوں کا کھلاڑی
میں اس کے ہاتھ کھیل بنتی رہی

محبت میں کچھ اس طرح توڑ دیا اس نے مجھے
میں جیتی تو تھی لیکن پل پل مرتی رہی
‏
اس کے لفظوں میں تھی کچھ ایسی روانی
میں فریب تحفظ میں اک عمر جیتی رہی

مجھ سے نا ہوا برداشت وہ بات کرے کسی اور سے
چھوٹی سی ناراضگی دوری بڑھاتی رہی

میرے دل کو اس کی یادیں کچھ ایسے جکڑ لیتی ہیں
میں پانی سمجھ کہ آنسو گراتی رہی

لگتا یوں ہے جیسے جدائی مجھے ملی ہے
اس کے دل کو مختلف رفاقتیں لبھاتی رہی

میرے لفظوں کی کیا اہمیت اس کے سامنے
اسے کسی اور کی شاعر تڑپاتی رہی

Rate it:
Views: 563
05 Aug, 2013
More Sad Poetry