میں فریب تحفظ میں اک عمر جیتی رہی

Poet: Maria Riaz Ghouri By: MArIa GHoUri, HarooNAbd

اس کے لفظوں میں خود کو تلاش کرتی رہی
اس کے اک اک اشعار پہ مرتی رہی

نہیں جانتی تھی وہ تو ہے لفظوں کا کھلاڑی
میں اس کے ہاتھ کھیل بنتی رہی

محبت میں کچھ اس طرح توڑ دیا اس نے مجھے
میں جیتی تو تھی لیکن پل پل مرتی رہی

اس کے لفظوں میں تھی کچھ ایسی روانی
میں فریب تحفظ میں اک عمر جیتی رہی

مجھ سے نا ہوا برداشت وہ بات کرے کسی اور سے
چھوٹی سی ناراضگی دوری بڑھاتی رہی

میرے دل کو اس کی یادیں کچھ ایسے جکڑ لیتی ہیں
میں پانی سمجھ کہ آنسو گراتی رہی

لگتا یوں ہے جیسے جدائی مجھے ملی ہے
اس کے دل کو مختلف رفاقتیں لبھاتی رہی

میرے لفظوں کی کیا اہمیت اس کے سامنے
اسے کسی اور کی شاعر تڑپاتی رہی

Rate it:
Views: 541
05 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL