میں قلم کا معروف ہوں شاعر تو خواب لکھتے ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیں قلم کا معروف ہوں شاعر تو خواب لکھتے ہیں
اپنی امنگوں سے لپٹی ہوئی دلہن کا حجاب لکھتے ہیں
چمن میں گوشوں پہ شبنم نے عرق ہی چھڑکی
گنچے سے نکلا ہے پھوُل ہم اسے گلاب کہتے ہیں
تم تو خاطر جمعی کے لیئے سحر ڈھونڈنے چل دیئے
ہمیں اداؤں کی تلاش جسے لوگ نایاب کہتے ہیں
یہاں سمندر گہرے ہیں ناؤ کو کنارے ٹھہرا
آندھی بپا ہوگی اتنے آنکھوں میں داب رکھتے ہیں
باہر کی خوشبوءِ سے جہاں کو معطر کرتے رہے
لیکن دامن میں اب بھی تھوڑا عذاب رکھتے ہیں
یہاں جینے لیئے بھی جگرسوزی کی ضرورت ہے
سنتوشؔ موت کو تو بس مہتاب ہی چاہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






