میں قید پنچھی کی طرح تڑپ کر سو جاتی ہوں
Poet: Roshani By: Roshani, U.A.Eمیں ہر روز رو کر سو جاتی ہوں
خود سے کہیں سوال پوچھ کر سو جاتی ہوں
سوچتے سوچتے محبت اتنی بے رحم کیوں ہے
میں اپنی آہیں سسکیوں میں پرو کر سو جاتی ہوں
جب کوئی بھی نا ملے غم خوار مجھے روشنی
میں ہواؤں سے اپنا غم کہہ کر سو جاتی ہوں
جب میرے درد کی کوئی بھی دوا نا ملے مجھے
میں اپنے ہی درد سے لپٹ کر سو جاتی ہوں
دو لمحے جو میسر تھے تیرے ساتھ کے مجھے
میں انہیں دو لمحوں میں سمٹ کر سو جاتی ہوں
تیرے ملنے کا جب بھی کوئی آثار نظر نا آئے
میں قید پنچھی کی طرح تڑپ کر سو جاتی ہوں
جب دل بے تاب کو چین نا آے تیرے دیدار کے بغیر
خواب میں ہی تیرے ملنے کی دعا مانگ کر سو جاتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






