میں میں رہوں نہ تم تم رہو
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonتپتی ریت ہو صحرا ہو چمن کوتو گلوں پر نکھار چاہیے
لالہ زار کو خزاں میں بھی بہار کی باز گشت چاہیۓ
حسن ملیح ہو کہ صبیح پر من کو خوبرو ہی چاہیۓ
گو وصف دیکھنے کے لیۓ آیئنہ روبرو چاہیۓ
عبث پھرتے ہیں آہیں بھرتے ہیں انہیں دارو درمن چاہیۓ
صحرا کے دیوانوں کو بس اک چارہ گر مسیحا چاہیۓ
یوں تو ہرسوء ذی نفس کو ضمیر کی صدا چاہیۓ
تغا فل جو برتیں تو انہیں سر قلم کی سزا چا ہیۓ
گو محبت کے لیۓ تو صرف اک قلب ہی چا ہیۓ
غرق ہوں کسی کی چاہ میں تو پیار کا ساگر چاہیۓ
آسا ں نہیں عشق کے لیے تو اک عمر چاہیۓ
مورکھ مانگ لا تھوڑی سی اور گر عسق چاہیۓ
عشق میں پرستش کے لیۓ گھرنہیں مند ر چاہیۓ
اقرار نہیں محبت میں تو من کا اعتبار چاہیے
ڈھونڈ لا کوئ پیمانہ ایسا گر وفا کی پیما ئش
وگر نہ محبت کی آزما ئش کو بھی اک حد چاہیۓ
محبت ہو نہ ہو زندگی تو گزر ہی جاتی ہے
گھر بسانے کے لیۓ کچھ درگزر ہی تو چاہیۓ
میں میں رہوں نہ تم تم رہو وفا میں ایسا مقام چاہیۓ
گرحوصلہ نہیں تو پھرجا مجھکوبھی اپنا نام چاہیۓ
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






