میں نا چیز جہاں

Poet: Fatima Ibraheem By: Fatima Ibraheem, Lahore

میں نا چیز جہاں ایک زرہ خاک کی طرح
میرے سوکھے ہوئے لب خاموش فریاد کی طرح
میری گھورتی آنکھیں ہیں بھوک افلاس کی طرح
میری محبت میرے چہرے پر الزام کی طرح
رہتا ہے پاس وہ میرے مگر گمان کی طرح
پل رہا ہے غم میرے اندر سرطان کی طرح
میرا دل جس میں ہے بند وہ ہے زندان کی طرح
اندر سے اٹھتی ہوئی ہوک ہے طوفان کی طرح
کھل رہا ہے قفل تصور مجھ پر تیرا وجدان کی طرح
پاس بس امید ہے باقی ساتھ ایمان کی طرح
سامنے تیرے سر کو جھکایا جب بھی غلام کی طرح
اور مانگی پناہ اس سے جو ہے شیطان کی طرح
رکھ لیا اوٹ میں اس نے اپنی مجھے امان کی طرح
اے زمیں ! میرا خدا ہے کیونکہ رحمان کی طرح
میں نا چیز جہاں ایک زرہ خاک کی طرح

Rate it:
Views: 829
15 Aug, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL