میں نہ تھا

Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore

زندگی کی ہر خوشی تھی میں نہ تھا
بے بسی بے چارگی تھی میں نہ تھا

تھا وہ تیرے لَب ہی کی کلیوں کا فیض
ا ِک مسلسل بے کلی تھی میں نہ تھا

میں اور سایہ گیسوئے خَمدار کا
میرے دل کی سادگی تھی میں نہ تھا

آپ جیسے شوخ کی خواہش مجھے
یہ میری دیوانگی تھی میں نہ تھا

ہجر کی کالی سیاہ راتوں میں دوست درد تھا
درماندگی تھی میں نہ تھا

پی رہے تھے خاربھی جس کا لہو
عشق کی دریا دلی تھی میں نہ تھا

آپ کی دہلیز پر دم توڑتی
وہ میری لاچارگی تھی میں نہ تھا

چار سُو پھیلی ہوئی شہرت تیری
تیرے غم کی چاندنی تھی میں نہ تھا

چل بسا میں تو آئے گھر میرے
میرے گھر میں روشنی تھی میں نہ تھا

بے خودی مشہور تھی تیری وسیم
وہ تو اَن کی بے رخی تھی میں نہ تھا

Rate it:
Views: 621
06 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL