میں نے زندگی گزار دی یہی سوچتے سوچتے
Poet: Arooj Fatima Lucky By: Arooj Fatima Lucky , K.S.A ُاسے اب بھی یقین نہ آئے تو کب آئے گا
میں نے زندگی گزار دی یہی سوچتے سوچتے
۔ ُاس نے تو فقط کہا ہی تھا - پھر کیوں
میں نے ہستی وار دی یہی سوچتے سوچتے
کہاں تک جاؤں منزلوں کے نشاں ڈھوتے
میں نے جیت - ہار دی یہی سوچتے سوچتے
لکی ُاس کے لیے میں نرم خاک ہی بن جاؤں
میں نے انا - ُاتار دی یہی سوچتے سوچتے
کبھی تو وہ لوٹائے گا میری وفا و محبت کو
میں نے ُادھار دی یہی سوچتے سوچتے
اب بھی نا پھول کھلے تو کیا کروں ؟
میں نے بہار دی یہی سوچتے سوچتے
شاید وہ سمجھ ہی جائے جو دل کو جاتی تھی
میں نے وہ تار دی یہی سوچتے سوچتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






