میں نے غربت کے چہرے پر بدبختی کا سوال دیکھا ہے

Poet: عبداللہ فاران By: عبداللہ فاران, Lahore

میں نے غربت کے چہرے پر بدبختی کا سوال دیکھا ہے
قسمت کی دہلیز پر ننگے جسموں کو بے حال دیکھا ہے

دیکھا ہے میں نے ہر عروج کے مقدر میں تنزّل کو
تاریخ کے صفحات پر کسرٰی کا زوال دیکھا ہے

دیکھا ہے میں نے دہشت کے مارے بچھتی لاشوں کو
فاقوں کی جنگ لڑتے جذبوں کا ارتحال دیکھا ہے

اونچے محلوں میں بیٹھ کر بدبختی کا چرچا کرنے والے
کیا غربت کی چکی میں پستے مفلس کا حال دیکھا ہے؟

مرے دیس میں ناداری ہے، بے حالی ہے
مگر امید کا میں نے نیا اک سال دیکھا ہے

دیکھا ہے میں نے مستِ مئے اطہر ہوا فارانؔ
میں نے خودی میں جھومتا اقبال دیکھا ہے

Rate it:
Views: 596
18 Nov, 2022
More Political Poetry