میں نے کاٹی ہے ترے پیار میں یہ عمررواں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکاش پڑجائے خرابوں میں ضرورت نہ رہی
موجِ تقدیس کی صورت ہے، یہ صورت نہ رہی
"جب وہ آئے تو چراغوں کی ضرورت نہ رہی"!
میں نے کاٹی ہے ترے پیار میں یہ عمررواں
دولتِ حسن کی خیرات مبارک ہوتجھے
تیرے حصے میں نہیں آئی کدورت نہ رہی
آتشِ ہجر میں خود کو ہی جلایا اس نے
بامِ تقدیر کو سزا کیوں ہے پہ چاہت نہ رہی
یہ مرا ذوقِ مسافت ہے مرا عزمِ جنوں
بند آنکھوں کے سبھی خواب ہیں حسرت نہ رہی
اپنی ہی سیج پہ آشاؤں کا لاشہ کیسا
غم کو اب پاس بلاتے ہوئے دہشت نہ رہی
مجھ کو لاتی ہے یہاں تیری عقیدت وشمہ
ورنہ اپنے ہی کسی کام سے شہرت نہ رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






