میں وقت کے خصار سے آگے نکل گیا
Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آباددیکھا جو میرا حال تو وہ بھی دہل گیا
نرمی زباں میں آگئی لہجہ پگھل گیا
آداب الفتوں کے سکھاتا تھا وہ مجھے
پھر آپ اپنے قول سے کیسے بدل گیا
سہمی ہوئی فضائیں ہیں پھیلی ہوئی گھٹن
وہ جب گیا تو شہر کا نقشہ بدل گیا
آنکھوں کے طاقچوں میں جلائے تھے کچھ چراغ
پر ظلمتوں کی آگ سے ہر خواب جل گیا
اپنے وجود کو اسی مٹّی میں چھوڑ کر
میں وقت کے حصار سے آگے نکل گیا
خوشبو تمھاری یاد کی پھیلی تھی چارسو
پیکر تمہارے حسن کا شعروں میں ڈھل گیا
رعنائیاں وہ چھین کے میرے وجود کی
چہرے پہ میرے ہجر کی کالک کو مل گیا
اس یارِ خوش جمال سے ملنا جو تھا مجھے
قدموں نے ساتھ چھوڑا تو میں سر کے بل گیا
میں ذات سے نکل کے ملا تھا اسے عمیر
وہ خود مرے وجود کے سانچے میں ڈھل گیا
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






