میں پردیس میں ہوں
Poet: yasir khan By: yasir khan, sibiمیں کیسے عید مناؤ کہ میں پردیس میں ہوں
کوئ بھی گیت گاؤ کہ میں پردیس میں ہوں
اپنے گاؤں میں ہوتا تو خوش بھی ہو جاتا میں
اب کیسے خود کر ہنساؤ کہ میں پردیس میں ہوں
دل تو لگتا تب جب ماں کے پاس بیٹھا ہوتا گھر
اب کہاں دل کر لگاؤ کہ میں پردیس میں ہوں
کسی اپنے کو سنا کر سکوں مل جاتا مجھے
کسےاب حال دل سناؤ کہ میں پردیس میں ہوں
شائد اسی بہانے تمھیں میری یاد آ جائے یاروں
کوئ پھول آنگن میں کھلاؤ کی میں پردیس میں ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






