میں کون ہوں اور میری حقیقت کیا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں کون ہوں اور میری حقیقت کیا ہے
جہاں میں بھیجا گیا میری ضرورت کیا ہے
زمیں کو میرے لئے آستاں بنایا گیا
فلک کو میرے لئے تاروں سے سجایا گیا
کہ میرے واسطے جہاں کیوں سجایا گیا
کبھی سوچوں کہ مجھے کس لئے بنایا گیا
جہاں میں مستقل قیام کی صورت کیا ہے
میں کون ہوں اور میری حقیقت کیا ہے
آگ پانی ہوا اور خاک سے ترتیب دیا
میرا بدن، پھر اس میں روح کو سمایا گیا
مجھے مخلوق میں برتر تریں بنایا گیا
میری تقدیر کا مالک مجھے بنایا گیا
مگر میں کیا کروں مختار بھی مجبور رہا
میں اپنے آپ میں رہ کر بھی خود سے دور رہا
شعلہ عشق میری روح میں سلگایا گیا
آتش ہجر سے کندن مجھے بنایا گیا
نظر کے حسن کو دل کا سکوں بنایا گیا
اور دل کی تڑپ کو لا دوا بنایا گیا
یہ عشق کیا ہے اور حسن کی مورت کیا ہے
میں کون ہوں اور میری حقیقت کیا ہے
میں کبھی نرم کبھی گرم طبع ہو جاؤں
کبھی شیریں سخن کبھی میں تلخ ہو جاؤں
میں خاک و خون کے آمیزے کا مرکب ہوں
میری مٹی میں لہو اس طرح ملایا گیا
خاک میں خون کے ملاپ کی صورت کیا ہے
میں کون ہوں اور میری حقیقت کیا ہے
میرے ہاتھوں میں دیا فن مجھے علم دیا ہے
مجھے پڑھایا سیکھایا مجھے قلم دیا ہے
میری تقدیر کا رستہ مجھے بتایا گیا
میری تقدیر کا مالک مجھے بنایا گیا
وہ کیا ہنر ہے جو مجھے نہیں سیکھایا گیا
مگر میں کیا کروں مختار بھی محتاج رہا
اگر میں کل تھا بادشاہ تو گدا آج رہا
کبھی صیاد کے چنگل سے بچ نکلتا ہوں
کبھی اپنے بچھائے جال میں آپھنستا ہوں
مجھے معلوم نہیں کہ یہ مصیبت کیا ہے
میں کون ہوں اور میری حقیقت کیا ہے
میں بارہا کسی تدبیر میں الجھایا گیا
میں بارہا اسی تقدیر سے ستایا گیا
جو مجھ پہ میری حقیقت کے در کو وا کر دے
جو مجھے میری حقیقت سے آشنا کر دے
کوئی بتائے مجھے کہ وہ بصیرت کیا ہے
میں کون ہوں اور میری حقیقت کیا ہے
جہاں میں بھیجا گیا میری ضرورت کیا ہے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






