میں کیا چاھتا ہوں
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: فرخندہ علی, Kohaat- Pakistanمیری ہر بات کا
مفہوم پوچھتی ہو
تم نہ مجھ کو سمجھ سکو گی
تم نہ مجھ کو جان سکو گی
میرے دل میں جو ہے سجنی
تم اس سے انجان رہو گی
پھر بھی تھوڑی کوشش کر لو
پوچھو پوچھو دل سے پوچھو
ذرا دل سے پوچھو میں کیا چاھتا ہوں
وفائیں مجھے دو وفا چاھتا ہوں
آنکھوں میں تیری
ہو تصویر میری
ترے لب ہِلیں تو
کہیں نام میرا
مرے نام سے ہو
ترا ہر سویرا
سوالوں میں آؤں جوابوں میں آؤں
تری زندگی کی رودادوں میں آؤں
یہ ماتھے کا جُھومر
یہ کانوں کا جھمکا
یہ ہاتھوں کا کنگن
یہ پاؤں کی پائیل
چھناچھن کھناکھن
کہیں نام میرا
خوابوں میں آؤں خیالوں میں آؤں
تری خامشی کے میں تالوں میں آؤں
دل جو دھڑکتا ہے دھک دھک تمھارا
تری دھڑکنوں پر اثر ہو ہمارا
سوچوں میں تیری
نہ کچھ ہو گماں
میں تیری حقیقت
میں تیرا تَصَوُّر
مورت کا تیری
میں ٹھہروں مُصَوِّر
میں جو کچھ بھی سوچوں
وہی تم میں دیکھوں
نس نس میں تیری
چاھت ہو میری
قربت ہماری ہو اتنی صنم
کہ اِک دوسرے میں سما جائیں ہم
کچھ ایسا ہوا ہے
کچھ ایسا ہی ہو گا
میں کیا چاھتا ہوں میں کیا چاھتا ہوں
ذرا پھر سے سوچو میں کیا چاھتا ہوں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






