میں کیا کروں
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAمیرے پیار میں کوئی کھو جائے تو میں کیا کروں
بیمار کا حال اگر بگڑتا ہی جائے تو میں کیا کروں
میں نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھول دیں اُسکی خاطر
وہ اگر راستے ہی میں کھو جائے، تو میں کیا کروں
اُسکی راہوں میں گلاب کی پتیاں بکھیر دیں میں نے
وہ اپنے پاؤں میں سب مسل دے، تو میں کیا کروں
مانا کہ خوبصورت ہے وہ، تبھی اٹھلاتا پھرتا ہے
مان ہے اگر اُسکو اپنی جوانی پہ، تو میں کیا کروں
میرے بازؤوں میں وہ جب بھی آیا، مچل کے رہ گیا
دل کے تار دل سے ملا گیا وہ، تو اب میں کیا کروں
جاوید جس کو چاہا، وہ مل گیا تجھے، پھر کیا غم
چرچا ہوا تیرے پیار کا اگر، تو پھر میں کیا کروں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






