میں کیسے بھول جاؤں
Poet: Muhammad Zia Siddiqui By: Muhammad Zia Siddiqui, IslamAbadمیں کیسے بھول جاؤں تیری ہر ادا نرالی
رک جائینگی یہ سانسیں نظریں اگر ہٹالی
آنکھوں میں بسنے والے کہیں تم چلے نہ جانا
جو کئے تھے قول تو نے انہیں دم تلک نبھانا
میرے دل کا آشیانہ کہیں رہ نہ جائے خالی
رک جائینگی یہ سانسیں نظریں اگر ہٹالی
تیرے ہاتھوں کی یہ مہندی میرے نام کی نہیں ہے
بن تیرے زندگانی کسی کام کی نہیں ہے
لوگوں نے میری میت تیرے نام پہ اٹھالی
رک جائینگی یہ سانسیں نظریں اگر ہٹالی
میری دھڑکنوں کا جھولا اب جھولتا نہیں ہے
تیرا چاند سا وہ مکھڑا مجھے بھولتا نہیں ہے
ہے دعا رہے سلامت تیرے لبوں کی لالی
رک جائینگی یہ سانسیں نظریں اگر ہٹالی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






