میں کیسے مان لوں
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobarمیں کیسے مان لوں وہ مجھ پے اعتبار رکھتا ہے
وہ ساتھ میرے ہے مگر بے قرار رکھتا ہے
مسلتا رہتا ہے میرے دل کو کسی کلی کی طرح
وہ میرے زخموں کو ہر پل بیدار رکھتا ہے
بھلائے دیتا ہے خود اپنے ہر ظلم کا حساب
اور میری ہر اک خطا کو شمار رکھتا ہے
میرے صحن میں سب موسم اداس رہتے ہیں
مجھے نصیب خزاں اور خود بہار رکھتا ہے
کہاں اب اس کی شکایت زمانے بھر سے کریں
ہزاروں دوست ہیں جن پے وہ جاں نثار رکھتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






