میں ہوں تیرا پروانہ
Poet: Kamal Hussain Balti By: Kamal Hussain Balti, muslim colony bari imam islamabadاے جانے والے سن لے اک بار مل کے جانا
میری آخری خواہش کی تم لاج رکھ کے جانا
کرتے ہو اگر پیار اقرار کرتے جانا
ہے رب کی قسم تم کو اظہار کرتے جانا
کرتے نہیں جو پیار تو یہ بھی بتاتے جانا
جاتے وقت اس دل کو سنگسار کرتے جانا
تم دل میں بس گئے ہو اسے ساتھ لیتے جانا
اک آخری دیدار تم اس لاش کا کر جانا
تم جا رہے ہو یہ ہے ناچیز کا نزرانہ
تم شمع ہو اے جانم میں ہوں تیرا پروانہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







