میں ہی اداس ہوں یا موسم اداس ہے
Poet: توصیف احمد کشافؔ By: توصیف احمد کشافؔ, Lahoreمیں ہی اداس ہوں یا موسم اداس ہے
میں ہی بے آس ہوں یا موسم اداس ہے
بویا جسے پھر کھاد و پانی نہیں دیا
میں وہ کپاس ہوں یا موسم اداس ہے
تو نے لگائی اور نہ ساگر بچھا سکا
میں وہ پیاس ہوں یا موسم اداس ہے
بِن جہیز شادیِ بنتِ غریب سی
کوئی ایسی آس ہوں یا موسم اداس ہے
غیروں نے جسے نوچا اپنوں نے کھایا ہو
میں ہی وہ ماس ہوں یا موسم اداس ہے
ہے تو ہجوم گِرد پر میرا نہیں ہےکوئی
آندھی کے پاس ہوں یا موسم اداس ہے
اس بار میری عید وہ شاید بنا دے عید
ایسا قیاس ہوں یا موسم اداس ہے
اپنوں نے جسے بیچ کے کروایا تار تار
میں وہ لباس ہوں یا موسم اداس ہے
میں جان گیا کشافؔ اب دوستوں کا اصل
مردم شناس ہوں یا موسم اداس ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






