نئے زمانے کے نت نئے حادثات لکھنا
Poet: آنند سروپ انجم By: مصدق رفیق, Karachiنئے زمانے کے نت نئے حادثات لکھنا
اداس پھولوں کی زرد پتوں کی بات لکھنا
فلک دریچوں سے جھانکتے خوش نما مناظر
زمیں پہ بے زاریوں میں لپٹی حیات لکھنا
تھکن کا احساس ہو تو کر لینا یاد اس کو
ادھورے خوابوں کی سر پھری کائنات لکھنا
سیاہی کس نے بکھیر دی کورے کاغذوں پر
کہ اجلے الفاظ کھا گئے کیسے مات لکھنا
یہ کون اس کی کہانیاں پھر سنا رہا ہے
کہاں سے آئی ہے خوشبوؤں کی برات لکھنا
اندھیرے رستے میں روشنی کی صدا سے پہلے
یہ کس نے کاندھے پہ رکھ دیا اپنا ہات لکھنا
اجالے فردا کے ڈھونڈھتی ہیں تھکی نگاہیں
یہ کن حصاروں میں قید ہے اپنی ذات لکھنا
بھٹک گئی ہے چہار سمتوں میں سوچ کیوں کر
کہ ذہن و دل پر لگا گیا کون گھات لکھنا
کلام تیرا فسردہ چہروں کا آئنہ ہو
تو اپنے اشعار میں ہر اک دل کی بات لکھنا
اسے یہ ضد تھی کہ دن کو لکھوں میں رات انجمؔ
مجھے نہ منظور تھا کبھی دن کو رات لکھنا
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






