نئے سرے سے محبت بھری کریں باتیں
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanگمان تم کو ہے راحت کی بات کرتے ہو
مگر اے دوست مصیبت کی بات کرتے ہو
نئے سرے سے محبت بھری کریں باتیں
ملے ہو کس لیے نفرت کی بات کرتے ہو
ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ پھر چلے جانا
ملن کی رت میں بھی عجلت کی بات کرتے ہو
وہ پوچھتے ہو جسے تم سے کہہ نہیں سکتا
مری ناکام سی حسرت کی بات کرتے ہو
کبھی تو موضوع بدل کر کیا کرو باتیں
فقط جواہر و دولت کی بات کرتے ہو
غزل کا دوسرا حصہ
یہ سچ کہاں ہے کہ فرحت کی بات کرتے ہو
ملو تو جب بھی مصیبت کی بات کرتے ہو
یہ شاعری ہے اسے شاعری ہی رہنے دو
کیوں خام سی کسی ندرت کی بات کرتے ہو
بتوں کے آگے جھکا کر جبین سوچو ذرا
بھلا یہ کیسی عقیدت کی بات کرتے ہو
حرام کھانے سے بھی اجتناب ہو ملا !
فقط حجاب کی ، غیرت کی بات کرتے ہو
اے حکمرانو ! تمھیں جانتے ہیں اچھی طرح
یونہی غریبوں کی، غربت کی بات کرتے ہو
ہیں تلخ آج بھی مزدور کے اوقات بہت
مشقتوں میں بھی عظمت کی بات کرتے ہو ؟
یہ ہم سے وعدے کہ پیدا کرو گے بجلی کو
مزاح کرتے ہو ،حیرت کی بات کرتے ہو
رہیں گے ہم یونہی درویش ،فن نہ بیچیں گے
کیوں ہم سے مال کی،شہرت کی بات کرتے ہو
یہاں ببول ہیں اور ہر طرف دھواں زاہد
چمن میں پھولوں کی۔ نکہت کی بات کرتے ہو ؟
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






