ناؤ کاغذ کی بنا بنا کر پانی میں بہانا یاد ہو گا

Poet: عادل صد یقی By: Adil siddeeqi, Riyadh

ناؤ کاغذ کی بنا بنا کر پانی میں بہانا یاد ہو گا
یہ بات ہے اپنے بچپن کی بچپن کا زمانہ یاد ہوگا تمہے

چاند دیکھنے ہر گھر کی چھت پر جانا یاد ہوگا
نماز کے لئے صبح دوستوں کو تیار کرانا یاد ہو گا تمہے

یہ بات ہے اپنے بچپن کی بچپن کا زمانہ یاد ہو گا

عید کے دن عید گاہ میں سب سے پہلے جانا یاد ہو گا
گاؤں کے ہر ہر گھر میں جا کر سیویاں کھانا یاد ہو گا تمہے

یہ بات ہے اپنے بچپن کی بچپن کا زمانہ یاد ہو گا

برسات کی تیز بارش میں جی بھر کے نہانا یاد ہوگا
بجلی کی کڑکڑاہٹ سے ڈر کر دوستوں کاہاتھ پکڑنا یاد ہوگا تمہے

ابّو کو دیکھ کر پھسل کے گرجا نے کا بہانہ کرنا یاد ہو گا
بھیگے کپڑوں میں گھر جاکر امی سے باتیں بنا نا یاد ہوگا تمہے

غلطیوں پہ بھی عادل ابّو سے کوئی سزا نہ ملنا یاد ہوگا
ہر گھڑی امی کے آنچل سے لپٹ لپٹ کر کھیلنا یاد ہوگا تمھے
 

Rate it:
Views: 700
01 Mar, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL