نادان محبت - ١
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiمحبت تو نادان ہوتی ہے
بس ہو ہی جاتی ہے
کبھی راہ چلتے ہوئے
کبھی اک نظر میں
بڑی ظالم ہے یہ محبت
کہیں چھپ بھی نہیں سکتی
آنکھوں سے صورت اشکوں کی
گالوں پہ بہہ کر
روپوش ہوجاتی ہے
بڑی ظالم ہے یہ محبت
دکھا کے جھلک الفت کی
وفا کا دم بھرتی ہے
بنا کے ریت کا محل
اس ہی کو روند دیتی ہے
کوئی سوال نہیں ہے
کوئی جواب نہیں ہے
بڑی ظالم ہے یہ محبت
دکھا کے شوخ و چنچل رنگ
دکھا کے خوبرو سپنے
نئی زندگی دیتی ہے
پھر اس ہی زندگی کو
زندہ درگور کرتی ہے
بڑی ظالم ہے یہ محبت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






