نازک سی کلی
Poet: MOHAMMED AHMED SIQQIQUI By: MOHAMMED AHMAD SIDDIQUI, GLASGOW UKصبح ہوتے اک نازک سی کلی نکلی
جس طرح دروزے سے من چلی نکلی
خد و خال ادئیں اسکی واہ واہ
جنسے دل میں مرے کھلبلی نکلی
جب روداد جو پوچھی تو علم ہوا
وہ بیچاری میری طرح من جلی نکلی
پڑی یکدم نظر تو لگی وہ اپنی سی
قریب آئ تو وہ ظالم اجنبی نکلی
ماحول تازہ ہوا اور دل مہک اٹھا
جیسے جنت سے پری ابھی ابھی نکلی
پیار ملے گا ان سے یہ سوچا تھا
کیا ملتا کہ الفت کی تجوری خالی نکلی
چپ رہنا تو کرتا ہے بیمار احمد
شعر جو لکھے تو جگر کی گرمی نکلی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






