ناں ھو کوئی بچپن جدا
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aوہ بچپن تھا چاھت کا ایک نام
وہ بچپن تھا ماں کا حسیں پیغام
وہ بچپن تھا سب کا سنہرا سفر
وہ بچپن تھا ان کی ماؤں کا ہنر
وہ بچپن تھا باپ کی چھاؤں میں
وہ بچپن تھا اپنوں کی بانہوں میں
وہ بچپن تھا مچلتا ھوا اک خواب
وہ بچپن تھا ننھی اداؤں کا گلاب
وہ بچپن تھا دادی کی نرم گود میں
وہ بچپن تھا دادا کی گہری سوچ میں
وہ بچپن تھا لوریوں کا حسیں گیت
وہ بچپن تھا کہانیوں کا سنہرا سنگیت
اس بچپن کی بڑی حسیں یادیں تھیں
وہ خوشبؤ سے بھری ہوئی باتیں تھیں
وہ جگنؤں سے چمکتی ہوئی راتیں تھیں
اس بچپن میں محبت کی سوغاتیں تھیں
اب وہ بچپن دھویں میں ھوا ھے اٹا
وحشتوں کے کئی خانوں میں ھے بٹا
اب بچپن کی بنیادوں میں کیوں خوف ھے
دلوں کو لرزاتی ہوئی کیوں موت ھے
نہ گلی میں چین نہ مدرسے میں سکوں
شہروں میں ہر طرف دھشت گردی کا جنوں
وہ جو بچپن تھا بچوں کا اب کھویا ھوا
ضمیر ہر دھشت گرد کا ھے سویا ھوا
مستقبل تھے جو ہمارے تباہ کر دئیے
ننھے پھول گلستان سے جدا کر دئیے
جو ہاتھ اٹھتے تھے مانگنے کو دعا
خودکش حملوں میں وہ رسوا کر دئیے
دھشت گردی کی یہ کیسی چلی ھے ہوا
چھوٹے بچوں کو دیتے ہیں کس بات کی سزا
اے خدا دکھا دے انہیں سیدھا راستہ
ماں باپ کی گود سے ناں ھو کوئی بچپن جدا
آمین
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






