ندی سمٹی کنارے آ گرے ہیں

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

ندی سمٹی کنارے آ گرے ہیں
کنائے، استعارے آ گرے ہیں

وہ لہریں، شوخیاں مستی، تلاطم
مرے قدموں میں سارے آ گرے ہیں

فلک پر جو کبھی رہتے فروزاں
زمیں پر وہ ستارے آ گرے ہیں

اُڑان اب تک نہ بھر پائے پرندے
قفس میں غم کے مارے آ گرے ہیں

مرے دل سے لہو کے پُھوٹ نکلے
تِرے پاؤں میں دھارے آ گرے ہیں

مری کُٹیا کی چھت پر کیا بتاؤں؟
جہاں بھر کے خسارے آ گرے ہیں

غضب کی لاڑکانہ میں تھی گرمی
خُراساں میں بچارے آ گرے ہیں

اُنہیں اپنا بنانا تم پہ واجب
کہ جو در پر تمہارے آ گرے ہیں

ہوئے ہیں دل کے ٹکڑے ایسے حسرتؔ
ہمارے گھر میں پارے آ گرے ہیں

Rate it:
Views: 456
20 May, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL