نصیب ۔۔۔

Poet: Dr. Riaz Ahmed By: Dr. Riaz Ahmed, Karachi.

پیدا ہوئے وہ دونوں اسی ایک ڈال پہ 
گلاب کی کلی 
اور اِک 
اس کا محافظ 
اصل ہے ان کی ایک پر 
زمین و آسماں 
ایک کے حصول کا زمانہ ہے طالب 
حسین سی صورت شکل 
دل پسند مہک 
جودیکھ لے اگر کوئی تو دیکھتا جائے 
چھوئے تو پہار سے 
توڑے جو ڈال سے تو بڑی احتیاط سے 
سنبھال کے رکھے کسی کے واسطے تحفہ 
بنائے ذات کی زینت 
شفا ہے یہ بدن کی اور ہے روح کی تسکین 
بکھرے بھی اگر توٹ کر تو زینتِ قبر 
اور دوسر 
کہ دیکھنا گوارا نہیں ہے 
قریب جو آیا کوئی غلطی سے ہی سہی 
ہٹ کر گزر گی 
دامن کو بچا کر 
جو چھو گیا کوئی 
تو گالیاں ملیں 
تحقیر و نفرتیں 
کوسنے دھتکار 
حالانکہ کانٹا کرتا ہے کلی کی حفاظت 
بنا دیا گیا ہے اذیت کی علامت 
گو کہ خود خالق نہیں یہ اپنی ذات ک 
نہ ہی 
خواہش تھی یہ اس کی 
پر کیا کرے کانٹ 
کہ 
یہی ہے حقیقت 
یہی تو ہے قسمت 
یہی تو ہے نصیب ۔۔۔

Rate it:
Views: 439
26 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL