نظر سے نظر ملائیو اب کے بار
Poet: Qasim Shuakh By: Qasim Shuakh, Mananwala Sheikhupuraنظر سے نظر ملائیو اب کے بار
دیکھ کے نظریں چرائیواب کے بار
کافی مدت سےہم نے دید نہیں کی
بن سنور کے آئیو اب کے بار
چاند سے چہرے کی بات الگ ہے
رخ سے پردا ہٹائیو اب کے بار
خوشبؤگلاب بھی خود پررشک کرے
زلفوں میں گلاب لگائیواب کےبار
گرموقع ملےبیٹھنےکا پہلو میں
حال_ ذل بھی سنائیو اب کے بار
دل دیوانےکی گزارش ہےآپ سے
سامنے سے نہ جائیو اب کے بار
وہ بھی سونگھیں لب_ "شوخ "کی نگہت
صبا! رنگ_غزل پھیلائیو اب کے بار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






