نظر کی دھند میں دل کا غبار رہنے دو
Poet: Latif Shahid (nowshera) By: Latif Shahid, nowsheraنظر کی دھند میں دل کا غبار رہنے دو
بچھڑنے والے کوئی تو ادھار رہنے دو
طناب گردش ایام تھام کے رکھنا
ہوں محو رقص، درون مدار رہنے دو
تم اپنے دل کے جزیرے پہ خوش رہو آباد
مجھے انا کے سمندر کے پار رہنے دو
اداسیوں سے کہو میرے دل میں گھر کر لیں
تم اپنے حسن کو باغ و بہار رہنے دو
بھلے نظر کے چراغوں کی روشنی لے لو
بس اک رمق اے اجل، انتظار رہنے دو
محبتوں میں کہاں رکھ رکھاو اب شاہد
رقابتوں میں ہی تھوڑا وقار رہنے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






