نظر کے راستے دل میں اتر جانے کی عادت ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنظر کے راستے دل میں اتر جانے کی عادت ہے
مجھے یادوں کے دھاروں میں بکھر جانے کی عادت ہے
ذرا ان سے کہو بنیاد اپنی تھام کر رکھیں
میری وحشت سے دیواروں کو ڈر جانے کی عادت ہے
کہاں ان کی نظر میں دلفریبی راہ کی ساقی
پرندوں کو فقط اپنے ہی گھر جانے کی عادت ہے
کبھی ہاتھوں میں دے کر ہاتھ جن راہوں میں پھرتے تھے
اسے کہنا مجھے اب بھی ادھر جانے کی عادت ہے
میرے الفاظ میں تیری وفا کا ذکر ہے اب بھی
خیالوں کو حقیقت سے مکر جانے کی عادت ہے
فقیہان شہر تم اپنی حدیں پاس ہی رکھو
دل نادان کو حد سے گزر جانے کی عادت ہے
نجانے ان لکیروں میں انہیں کیا جوگ ملتا ہے
میری مٹھی میں تاروں کو ٹھہر جانے کی عادت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






