نظروں کے کھیل میں دل ہار بیٹھے ہیں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaنظروں کے کھیل میں دل ہار بیٹھے ہیں
اِک حسین مُورت سے کر پیار بیٹھے ہیں
نظروں سے ملی نظر تو جادو جگا
نظروں سے پیار کا کر اقرار بیٹھے ہیں
مسکرا کے جب دیکھا پیار سے اُس نے
دل کو یارو کر بے قرار بیٹھے ہیں
مدہوش عالم ہوگا پھر سارا
ایسے چہرے کا کر دیدار بیٹھے ہیں
جب بھی اُس کے خیال سے الگ بیٹھوں
ایسا لگتا ہے جیسے بے کار بیٹھے ہیں
نظروں سے نظر ملتے ہی صدائیں آئی
چھیڑ ہم تو دلوں کے تار بیٹھے ہیں
اب خدا جانے انجام کیا ہو گا
عشق کے ہو کے ہم گناہگار بیٹھے ہیں
نہال مت پوچھو اب حالِ دل
جب سے نظریں کر دو چار بیٹھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






