نظم ...سنو لڑکی

Poet: Haya Ghazal By: Haya Ghazal, Karachi

سنو لڑکی
ذرا اک بات کہنی ہے
سنو لڑکی.......!ذرا ٹھہرو
کہ آگے راستہ دشوار ہے
اور.....تمہاری عمر ہے کچی
سنبھلنا ہے ابھی
جانا نہیں ان انجان رستوں پر
کہ جنکی کوئ بھی منزل نہیں ہوتی..
ابھی آنکھوں میں کوئ بھی
ادھورے خواب نہ رکھنا
سنو لڑکی
ابھی تم نہ الجھنا
عشق کی دشوار جھاڑی میں
کہیں دامن کو تار تار،نہ کردے
تمہاری معصوم خوشیوں کا
کہیں یہ خون نہ کردے
ابھی رکھنا نہ سوکھے پھول
تم اپنی کتابوں میں
نہ پڑھنا شاعری میں
فراز اور فیض کی غزلیں
کہ یہ بھی وہی دنیا دکھاتے ہیں
پرانے درد کچھ
ڈھلتی شام کے سائے کے ساتھ
کبھی رستے ہیں آنکھوں سے
کبھی دل کو جلاتے ہیں
ابھی چھوٹی ہوتم
تمہاری عمر بھی کلیوں کی جتنی
سنو تم گڑیوں سے کھیلو
محبت زخم دیتی ہے
ہر اک موسم
ہر اک لمحہ
نیا اک درد دیتا ہے
ابھی ہنسنے کے دن ہیں
سو اس سے دور ہی رہنا
میری باتیں
کہیں تم بھول نہ جانا
بہت نادان ہو کیونکہ
تھوڑا وقت دو خود کو
اور تھوڑی سی توجہ بس
بھول نہ جانا
سمجھ جانا
سنو لڑکی

Rate it:
Views: 1382
17 May, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL